ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق

منظر
شاعر کتابیں پھیلائے کچھ لکھنے میں مصروف ہے. بیوی مشین پر کپڑوں کی سلائی کر رہی ہے
بیوی : اجی سنتے ہو، کل بڑی آپا نے افطاری پر بلایا ہے. عید سر پر ہے بچوں کو عیدی تو دینا پڑے گی
شاعر: الٰہی خیر
دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
پھر ترا وقتِ سفر یاد آیا
جب جاتی ہو، ساری جمع پونجی خرچ کر آتی ہو
بیوی : سارا دن کتابوں میں سر دئیے بیٹھے رہتے ہو، چار پیسے کما کر لاؤ. جو تھا وہ بھی ختم ہو گیا
شاعر: گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسےغارت کرتا
کلامِ غالب کی شرح لکھ رہا ہوں اگر چند لمحوں کے لیے آپ سلسلہء گفتگو منقطع فرمائیں تو بندء ناچیز اس طلسمِ معنی کی کچھ گرہیں کھولنے کی جسارت کر لے
بیوی : افف، جب سے آئی ہوں یہ میر و غالب گھر سے نہیں نکلے. عید سے پہلے ایک دو مشاعرے پڑھ لیتے تو کچھ رقم ہاتھ لگ جاتی. سارا دن مشین چلا چلا کر خود مشین بن گئ ہوں
شاعر: رمضان میں مشاعرہ سننے والے کہاں سے آئیں گے؟ جیسے تیسے گزارا کرو.
بیوی : آج تک یہی تو کیا ہے، وہ کیا شعر ہے بتانا ذرا
جیسے تیسے کیسے کیسے ہو گئے
شوہر : اشعار پر ہاتھ صاف کرنے سے بہتر ہے سلائی کی طرف دھیان دو.
بیوی : ہائے کون سی منحوس گھڑی تھی جب میں بیاہ کر اس گھر میں آئی تھی(آنسو پونچھتی ہے)
شاعر : ٹھیک کہا
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
بیوی : کیا کہا؟ پھر سے کہنا
شاعر: اپنے اللہ سے فریاد رہا ہوں کہ تمہارا اور میرا جوڑا بناتے ہوئے
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا
بیوی: (تنتناتے ہوئے) اے لو، کہہ تو ایسے رہے ہو جیسے شہر بھر کی حسینائیں قطار باندھے آپ کی نظرِ کرم کی منتظر کھڑی تھیں
شاعر(لکھتے ہوئے، بے نیازی سے)
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
بیوی : ارے میرے ابّا کو اس نگوڑی شاعری کا شوق نہ ہوتا تو میں دیکھتی کیسے وہ اپنے جگر کا ٹکڑا تمہارے حوالے کر دیتے
شاعر: (مسلسل لکھتے ہوئے ) کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
بیوی : تم نے آج تک میری کون سی بات سمجھی ہے جو اب سمجھو گے. آخری بار کہہ رہی ہوں اگر کل تک پیسوں کا بندوبست نہ ہوا تو بچوں سمیت ابّا کے ہاں چلی جاؤں گی مستقلاً
شاعر: کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
بیوی : دیکھنا دو دن میں بچوں کی محبت میں بھاگے چلے آؤ گے مگر میں نہیں آنے کی
شاعر: جس کو ہو دین و دل عزیز، اس کی گلی میں جائے کیوں
بیوی (روتے ہوئے) میرے تو نصیب ہی پھوٹ گئے. گھر کی چکّی پیستے پیستے ایک دن اس دنیا سے کوچ کر جاؤں گی تو یاد کرو گے
شاعر(زیر لب) اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
بیوی (مشین چھوڑ کر بیٹھتے ہوئے) ٹھیک ہے، دیکھتی ہوں آج کھانا کہاں سے آتا ہے. اپنی سلائی کے پیسوں سے ایک پیسہ خرچ نہیں کروں گی ہاں
شاعر: اشکِ غم پینے کو، لختِ جگر کھانے کو
یہ غذا ملتی ہے لیلیٰ ترے دیوانے کو
بیوی : یہ کمبخت ماری لیلیٰ کتنوں کے گھر اجاڑے گی؟ تم جیسے شاعر اسے مرنے کہاں دیتے ہیں. ارے کم از کم مجھے ہی یہ شعر گھڑنا سکھا دیتے، اللہ نے اتنی اچھی آواز دی ہے کہ ترنّم سے پڑھ کر مشاعرے لُوٹ لیتی
شاعر: شعر گھڑنا تو دور کی بات تم شعر پڑھنا ہی سیکھ لیتیں تو گوشے میں قفس کے مجھے آرام تو میسر آتا
بیوی : ارے واہ، پڑھنا کیوں نہیں آتا. ایک دفعہ ابّا کو تمہارے اس غالب کا شعر پڑھ کر سنایا تو بے ساختہ بولے”شعر پڑھنا تم پر ختم ہے” تم بھی سنو
عشق پُر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب
کہ لگائیں تو لگے اور بجھائیں تو بجھے
شاعر: صد شکر کہ غالب نے یہ شعر نہیں سنا ورنہ اس پُر زور عشق کے ہاتھوں وقت سے پہلے ختم ہو جاتے
(دروازے پر دستک ہوتی ہے)
شاعر:(اونچی آواز سے) چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
بیوی :آہستہ بولو، پڑوس میں خان صاحب نے سن لیا تو گلا دبوچ لیں گے کہ ان کی بیٹی گلشن کے کس کاروبار کا ذکر کر رہے ہو
(سامنے سے بیوی کے والد آتے دکھائی دیتے ہیں)
بیوی:(خوشی سے کھڑے ہو کر) ارے ابّا آئے ہیں
ابّا: السلام علیکم! کیسے ہو میاں؟
شاعر(معانقہ کرتے ہوئے) آداب حضور، آپ کی دعا ہے. کہیے مزاج کیسے ہیں؟
ابّا: یہ بچے نظر نہیں آ رہے؟
بیوی : چھٹیاں ہو گئی ہیں، گلی محلے میں پھیلے ہوئے ہوں گے
شاعر: جی ہاں
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
بیوی(شکایتی نظروں سے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے) میں آپ ہی کی طرف آ رہی تھی ابّا
شاعر(دبے لفظوں میں)
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا
(گلی سے چھوٹے بچے کے رونے کی آواز آتی ہے)
ابّا: نقش فریادی ہے کس کی شوخیء تحریر کا
بیوی: یہ اپنا مُنّا ہے سدا کا روندلُو، مار کھائی ہو گی کسی سے
ابّا: اچھا چھوڑو، بچہ ہے رو کر چپ ہو جائے گا. یہ لو رقیّہ کچھ رقم رکھ لو، تمہاری اور بچوں کی عیدی ہے اور یہ بیگ پکڑو، تم سب کے عید کے کپڑے تمہاری امّاں نے بھجوائے ہیں
(بیوی خوشی سے کپڑے کھول کھول کر دیکھنے لگتی ہے)
شاعر(مسکراتے ہوئے) زہے نصیب آپ آئے تو
اس میں کچھ شائبہء خوبیء تقدیر بھی تھا
ابّا: اور ہاں کل صفیہ کے ہاں آپ لوگوں کی افطاری نہیں ہے. صفیہ بیمار رہتی ہے کہاں باورچی خانے میں گُھسے گی. کل تم دونوں بہنیں ہمارے ہاں افطاری کرو گی،بھائی بھابیوں کے ساتھ،. اب میں ذرا وضو کر لوں نماز کا وقت ہو رہا ہے(وضو کے لیے اٹھ جاتا ہے)
بیوی: (خوشی کے آنسو پونچھتے ہوئے) اللہ یہ والدین بھی رب کی کتنی بڑی رحمت ہیں. بیٹیوں کے دکھ کیسے سمیٹ لیتے ہیں
شاعر: (بیوی کی طرف دیکھ کر گنگناتے ہوئے لکھنے میں مصروف ہو جاتا ہے)
غم ہے یا خوشی ہے تُو
میری زندگی ہے تُو
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ثقیل اتنی کہاں گفتگو محبت کی
لوگ کیا کہیں گے ؟
غریب خانہ
وجہِ تسکینِ جاں،سرورِ دو جہاں
میاں محمد بخش (1830 تا 1907)
حضرت بابا بُلھے شاہ (1680 تا 1757)
حضرت خواجہ غلام فرید (1845 تا 1901)
مادھو لال حسین (1538 تا 1599)
حضرت سخی سلطان باھو (1630 تا 1691)
حضرت فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ (1173 تا 1266)

اشتہارات