ایک ہی جیسے لگے سُننے میں افسانے کئی

ایک ہی جیسے لگے سُننے میں افسانے کئی

ہو بھی سکتا ہے کہ اس دنیا میں ہوں ہم سے کئی

 

چار آنکھیں چاہئیں اس کی حفاظت کیلئے

آنے جانے کیلئے جس گھر میں ہوں رستے کئی

 

آدمی کے پر لگے ہیں جب سے سمٹی ہے زمیں

اب تو جینے کے لئے درکار ہیں چولے کئی

 

ٹھن گئی ہے اس لئے تقدیر اور تدبیر میں

ہاتھ تو ہر اِک کے دو ہیں اور گل دستے کئی

 

بات قسمت کی نہیں ، دل تھا ہوس نا آشنا

ورنہ ہم کو بھی ملے تھے کام کے بندے کئی

 

قربتوں سے فاصلوں کی جس سے بیداری ملی

جسم و جاں کے درمیاں آئے نظر پردے کئی

 

بھیڑ میں ایسے گھرے کہ بڑھ گئیں تنہائیاں

ساتھ ہی لیکن ہوئے آباد، ویرانے کئی

 

لب پہ ہلکی سی ہنسی اور قلب ڈانواں ڈول ہے

راہ میں کعبے کے پڑتے ہیں صنم خانے کئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
ضبط کے امتحان سے نکلا
بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا
لوگوں کے دُور کر کے غمِ روز گارِ عشق
یاقوت لب کو آنکھ کو تارہ نہ کہہ سکیں
تمام اَن کہی باتوں کا ترجمہ کر کے
اس لیے بھی دُعا سلام نہیں
اِک ذرہِ حقیر سے کمتر ہے میری ذات
پا یا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے
اب اُس کی آرزو میں نہ رہیئے تمام عمر

اشتہارات