اردوئے معلیٰ

ایک ہی خواب کو آنکھوں میں سجا رکھا ہے

سر کو خاکِ در اقدس پہ جھکا رکھا ہے

 

قابلِ رشک ہے وہ شخص بھری دنیا میں

میرے آقا نے جسے اپنا بنا رکھا ہے

 

کیوں نہ رحمت کے فرشتے کریں رحمت مجھ پر

آپ کا نام جو ہونٹوں پہ سجا رکھا ہے

 

جس نے سرکار کی الفت کو بسایا دل میں

ہم نے پلکوں پہ اُسے اپنی بٹھا رکھا ہے

 

ساتھیو آؤ کریں مدحتِ شاہِ والا

ہم نے میلاد کی محفل کو سجا رکھا ہے

 

کیا ڈرائے گا لحد کا یہ اندھیرا مجھ کو

اُن کی یادوں کا دیا دل میں جلا رکھا ہے

 

زندگی جھومتی رہتی ہے رضاؔ کی ہر دم

نعتِ سرکار نے وہ رنگ جما رکھا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات