اے ارض مقدس کے راہی ایماں کی حرارت لے جانا

اے ارض مقدس کے راہی ایماں کی حرارت لے جانا

ایماں کی حرارت ساتھ رہے وہ ذوق عبادت لے جانا

 

ماضی میں جو تم سے بھول ہوئی، اس بھول پہ ہو کر شرمندہ

آنکھوں میں ندامت کے آنسو، اشکوں کی ندامت لے جانا

 

اے زائر ارض پاک حرم، کعبے میں پہنچ کر سر تیرا

معبود کے آگے جھک جائے، ایقاں کی صداقت لے جانا

 

جب گنبد خضریٰ پر پہنچو تو حد ادب ملحوظ رہے

اس در پہ پہنچنے کی خاطر، حد درجہ محبت لے جانا

 

خوشدل کی زباں پر صبح و مسا، لبیک کا ہے روشن کلمہ

کہہ اٹھیں ملک سبحان اللہ، وہ شوقِ زیارت لے جانا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ