اے جانِ نِعَم ، نقشِ اَتَم ، سیدِ عالَم

اے جانِ نِعَم ، نقشِ اَتَم ، سیدِ عالَم

بے مثل ہیں سب تیری شِیَم ! سیدِ عالَم

 

مَیں خام ہُوں، خستہ ہُوں، خرابی کا مرقّع

تُو ماحیٔ احساسِ الَم ، سیدِ عالَم

 

تُو چاہے تو دے جذب کو اظہار کی نُدرت

حاضر ہیں مرے نُطق و قلم ! سیدِ عالَم

 

یہ صبح ترے عارضِ تاباں کا وظیفہ

یہ شام تری زُلف کا خَم ، سیدِ عالَم

 

جس خاک سے ہے صدیوں کی نسبت کا تفاخر

کر دیں مجھے اُس خاک میں ضَم ، سیدِ عالَم

 

شاید کہ چمک اُٹھے کوئی عکسِ زیارت

رہتا ہُوں مَیں بادیدۂ نم ، سیدِ عالَم

 

زیبا ہے تجھے کاسۂ احساس کو بھرنا

مانگا ہے نہ کچھ بیش نہ کم ، سیدِ عالَم

 

کھُلنا تھا سرِ حشر مرا دفترِ عصیاں

رکھا ہے مگر تُو نے بھرم ، سیدِ عالَم

 

آئیں گے مجھے دیکھنے مہر و مہ و انجم

چمکے گا ترا نقشِ قدم ، سیدِ عالَم

 

جب آپ کے ہاتھوں میں ہے تعبیرِ شفاعت

مقصودؔ کو پھر خوف نہ غم ، سیدِ عالَم

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میرے درد و غم کی دوا ہو رہی ہے
شہرِ بطحا کی یاد آتی ہے
جب مرے سر پہ کبھی بارِ الم آیا ہے
مرحبا! حُسنِ طریقت آپ کی
نعت میں کیسےکہوں ان کی رضا سےپہلے
آپ کا جود و کرم شاہِ امم
سینکڑوں موڑ نئے راہِ تمنا میں ملے
آپ کا جمال یا رسول
سب سے پہلے مشیت کے انوار سے
بیان کیسے ہو عظمت رسولِ اکرم کی

اشتہارات