اردوئے معلیٰ

اے جانِ نِعَم ، نقشِ اَتَم ، سیدِ عالَم

بے مثل ہیں سب تیری شِیَم ! سیدِ عالَم

 

مَیں خام ہُوں، خستہ ہُوں، خرابی کا مرقّع

تُو ماحیٔ احساسِ الَم ، سیدِ عالَم

 

تُو چاہے تو دے جذب کو اظہار کی نُدرت

حاضر ہیں مرے نُطق و قلم ! سیدِ عالَم

 

یہ صبح ترے عارضِ تاباں کا وظیفہ

یہ شام تری زُلف کا خَم ، سیدِ عالَم

 

جس خاک سے ہے صدیوں کی نسبت کا تفاخر

کر دیں مجھے اُس خاک میں ضَم ، سیدِ عالَم

 

شاید کہ چمک اُٹھے کوئی عکسِ زیارت

رہتا ہُوں مَیں بادیدۂ نم ، سیدِ عالَم

 

زیبا ہے تجھے کاسۂ احساس کو بھرنا

مانگا ہے نہ کچھ بیش نہ کم ، سیدِ عالَم

 

کھُلنا تھا سرِ حشر مرا دفترِ عصیاں

رکھا ہے مگر تُو نے بھرم ، سیدِ عالَم

 

آئیں گے مجھے دیکھنے مہر و مہ و انجم

چمکے گا ترا نقشِ قدم ، سیدِ عالَم

 

جب آپ کے ہاتھوں میں ہے تعبیرِ شفاعت

مقصودؔ کو پھر خوف نہ غم ، سیدِ عالَم

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات