اے جسم بے قرار ثنائے رسول سے

اے جسم بے قرار ثنائے رسول سے

جوڑ اپنے دل کے تار ثنائے رسول سے

 

ہر صبح پر وقار ثنائے رسول سے

ہر شام خوش گوار ثنائے رسول سے

 

بھٹکا ہے ساری عمر سرابوں کی چاہ میں

جوڑ اب تو دل کے تار ثنائے رسول سے

 

کیا جانے سانس کا ہو سفر کس مقام تک

جی بھر کے کر لے پیار ثنائے رسول سے

 

جن کو خبر نہیں انہیں جا کر بتایئے

دنیا کی ہے بہار ثنائے رسول سے

 

وہ ذات، نامراد کو کرتی ہے با مراد

تو زندگی سنوار ثنائے رسول سے

 

گر تجھ کو لازوال محبت کی آسؔ ہے

جوڑ اپنے دل کے تار ثنائے رسول سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ