اردوئے معلیٰ

Search

 

اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب

صبح ازل ہے تیری تجلی سے فیض یاب

 

زینت ازل کی ہے تو ہے رونق ابد کی تو

دونوں میں جلوہ ریز ہے تیرا ہی رنگ و آب

 

چوما ہے قدسیوں نے تیرے آستانے کو

تھامی ہے آسمان نے جھک کر تیری رکاب

 

شایاں ہے تجھ کو سرور کونین کا لقب

نازاں ہے تجھ پہ رحمت داریں کا خطاب

 

برسا ہے شرق و غرب پہ ابر کرم تیرا

آدم کی نسل پر تیرے احسان ہیں بے حساب

 

پیدا ہوئی نہ تیری مواخات کی نظیر

لایا نہ کوئی ےتیری مساوات کا جواب

 

خیر البشر ہے تو، تو ہے خیر الامم وہ قوم

جس کو ہے تیری ذات گرامی سے انتساب

 

یثرب کے سبز پودے سے باہر نکال کر

دونوں دعا کے ہاتھ بصد کرب و اضطراب

 

دنیا کے گوشے گوشے میں ہے گرچہ آج کل

امت تیری رہین ستم ہائے بے حساب

 

حق سے یہ عرض کر کہ تیرے ناسزا غلام

عقبی میں سرخرو ہوں تو دنیا میں کامیاب

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ