اے ختمِ رسل نورِ خدا شاہِ مدینہ

اے ختمِ رسل نورِ خدا شاہِ مدینہ

مقبول ہو ہر ایک دعا شاہِ مدینہ

 

امت پہ تری آج کرونا کی وبا ہے

موذی سے ملے سب کو شفا شاہِ مدینہ

 

کب سے ہے تمنّا کہ مرے خواب میں آئیں

دیدار کبھی کر دیں عطا شاہِ مدینہ

 

ممکن نہیں تعبیر ہوں یہ حرف و بیاں سے

اوصاف ملے تجھ کو جُدا شاہِ مدینہ

 

تسکین میں ڈھل جاتے ہیں سب اشک بھی زاہدؔ

جب ان کو عقیدت سے کہا شاہِ مدینہ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات