اے خدائے بحر و بر ، بابِ نعت وا کر دے

اے خدائے بحر و بر ، بابِ نعت وا کر دے

ہر سخن قبیلے کو ، نعت آشنا کر دے

 

کھول دے مری جانب روشنی کی سب راہیں

ٹال دے شبِ ظلمت صبحِ نو عطا کر دے

 

لفظ کو رہائی دے لوحِ نا شگفتہ سے

حرفِ ناصیہ سا کو واقفِ ثنا کر دے

 

میری ہر تمنا کو رکھ جوارِ بطحا میں

میری ساری سوچوں کو جانبِ حرا کر دے

 

واسطہ تجھے مولا کربلا کے پھولوں کا

رنج و غم کی ان دیکھی قید سے رہا کر دے

 

زندگی کا گلشن ہے زرد رت کے چنگل میں

زندگی کا یہ گلشن پھر ہرا بھرا کر دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گذشتہ رات یادِ شاہ دل میں سو بسو رہی
چاند تاروں سے سرِ افلاک آرائش ہوئی
سجا ہے لالہ زار آج نعت کا
تمہیؐ سرور تمہیؐ ہو برگزیدہ یارسول اللہؐ
گھٹا نے منہ چھپا لیا گھٹا کو مات ہو گئی
مجھ غم زدہ پہ جود و کرم کر دیئے گئے
میرے آقا دیں گواہی جس کی ارفع شان کی
فروغِ علم کی یا رب کتاب کر دے عطا
دعا کو بھیک مل جائے اثر کی
جاہِ دنیا نہ خود نمائی دے

اشتہارات