اے خدائے ہر دوعالم بہر حسان رسول

اے خدائے ہر دوعالم بہر حسان رسول

میں بھی ہو جاؤں دل و جاں سے ثنا خوانِ رسول

 

رحمت باری انہیں کے ساتھ رہتی ہے مدام

دل سے ہو جاتے ہیں لوگو جو غلامانِ رسول

 

کس طرح کوئی گھٹا سکتا ہے ان کی عظمتیں

جب بڑھاتا ہے خدائے پاک خود شانِ رسول

 

کاش مل جائے ہمیں بھی باریابی کا شرف

کاش طیبہ میں رہیں ہم بن کے مہمانِ رسول

 

خالق کونین کے محبوب ہو جاتے ہیں وہ

کس قدر خوش بخت ہوتے ہیں محبانِ رسول

 

حضرتِ نواب کی چوکھٹ پہ آ کر دیکھ لو

بٹتا رہتا ہے یہاں ہر لمحہ فیضانِ رسول

 

کس لیے ہو خدشۂ روزِ جزا انجمـؔ مجھے

آ گیا قسمت سے میرے ہاتھ دامانِ رسول

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں
ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا
رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف
حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
مرے آقاؐ، کرم مُجھ پر خُدارا
آپؐ کے پیار کے سہارے چلوں
نبیؐ کا گُلستاں ہے اور میں ہوں
ذکرِ نبیؐ سے ہر گھڑی معمُور ہوتا ہے
نہیں بیاں کی ضرورت، حضور جانتے ہیں
کمال اسم ترا، بے مثال اسم ترا

اشتہارات