اے میری حیات کے سہارے

اے میری حیات کے سہارے

دل تیرے سوا کسے پکارے

 

تو نورِ ازل کا رازداں ہے

تو مہر و وفا کی داستاں ہے

 

تو قلبِ گداز میں مکیں ہے

مومن کی حیات کا یقیں ہے

 

پھر بھٹکے ہوؤں کو روشنی دے

انساں کو شعورِ بندگی دے

 

پھر تجھ سے عطا کی بھیک مانگوں

اُمت کی شفا کی بھیک مانگوں

 

آدابِ حیا سکھانے والے

یہ میری ردا تیرے حوالے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ