اردوئے معلیٰ

اے والیء مدینہ بلوائیے مدینہ

مشکل ہوا ہے جینا بلوائیے مدینہ

 

روضے کی جالیوں کو چوموں ، گلے لگاؤں

حسرت ہے یہ دیرینہ بلوائیے مدینہ

 

مجھ پر حضورِ عالی کیجے نظر کرم کی

گردش میں ہے سفینہ بلوائیے مدینہ

 

طیبہ ہو مجھ سا عاصی اور آپ کی عطائیں

اور دولتِ سکینہ بلوائیے مدینہ

 

عصیاں کا بار سر پر ہائے! عذاب کا ڈر

ماتھے پہ ہے پسینہ بلوائیے مدینہ

 

میری سخنوری کو نعتوں کا حُسن دیجے

اور دیجیئے قرینہ بلوائیے مدینہ

 

میرے بھی دل کا آقا چمکے گا نور بن کر

تاریک یہ سفینہ بلوائیے مدینہ

 

آقا جی آپ کی بس ہے آرزو رضاؔ کو

اور خواہشِ مدینہ بلوائیے مدینہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات