اردوئے معلیٰ

اے کاش حیات آپ کے قدموں میں گزر جائے

اے کاش حیات آپ کے قدموں میں گزر جائے

قطرہ مری ہستی کا بھی دریا میں اُتر جائے

 

نکلے مرا دم روضۂ انور کے مقابل

مٹی بھی مری راہِ مدینہ میں بکھر جائے

 

اے کاش کبھی خواب میں دیکھوں رخِ انور

دیدارِ نبی سے مری قسمت بھی سنور جائے

 

بس جائے مری روح میں عشقِ شہِ والا

ساغر دلِ مضطر کا اسی نور سے بھر جائے

 

اشعار بنیں حاملِ تنویرِ رسالت

لفظوں کی چمک شعر سے تا حدِّ نظر جائے

 

آقا کی شفاعت کی ہو اُمید قوی تر

دنیا سے مری روح بھی بے خوفِ سقر جائے

 

ہر دین کے باغی کے مقدر میں ہو توبہ

یا وہ سرِ میدانِ شقاوت یونہی مر جائے

 

دل ہجرِ مدینہ میں پگھل جاتا ہے احسنؔ

دربارِ رسالت میں بھی میری یہ خبر جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ