اردوئے معلیٰ

Search

اے کاش وہ دن کب آئیں گے جب ہم بھی مدینہ جائیں گے

دامن میں مرادیں لائیں گے جب ہم بھی مدینہ جائیں گے

 

بیتابی الفت کی دھن میں ہم دیدہ ودل کے بربط پر

توحید کے نغمے گائیں گے جب ہم مدینہ جائیں گے

 

تھامیں گے سنہری جالی کو چومیں گے معطر پردوں کو

قسمت کو ذرا سلجھائیں گے جب ہم بھی مدینہ جائیں‌گے

 

زم زم میں بھگو کر دامن کو سر مستی عرفاں پائیں گے

کوثر کے سبو چھلکائیں گے جب ہم بھی مدینہ جائیں‌گے

 

ہنستی ہوئی کرنیں پھوٹیں گی ظلمات کے قلعے ٹوٹیں گے

جلووں کے علم لہرائیں گے جب ہم بھی مدینہ جائیں گے

 

ہم خاک درِ اقدس لے کر پلکوں پہ سجائیں گے ساغرؔ

یوں دل کا چمن مہکائیں گے جب ہم بھی مدینہ جائیں گے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ