باالیقیں مروہ ، صفا پر زندگی ہے آپؐ سے

 

باالیقیں مروہ ، صفا پر زندگی ہے آپؐ سے

آج بھی غارِ حرا میں روشنی ہے آپؐ سے

 

آپؐ سے ہم کو ملا ہے بے نہایت حوصلہ

ہم خطاکاروں کی رشد و رہبری ہے آپؐ سے

 

ظلمتوں کو آپؐ نے بخشی اُجالوں کی ردا

طاقِ ہستی میں چراغِ سرمدی ہے آپؐ سے

 

بادشاہت کو ملا ہے آپؐ سے اعلیٰ مقام

سرورِ ہر دو جہاں یہ سروری ہے آپؐ سے

 

آپؐ کے دم نے کیا آب و ہوا کو بے مثال

شہرِ طیبہ تیرا حسن و دلکشی ہے آپؐ سے

 

مرتضیٰؔ اس سلسلے کا اوّل و آخر ہیں آپؐ

کاروانِ انبیأ کا ہر نبی ہے آپؐ سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا
ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت اُن کی
گھِرے طُوفاں میں ہیں، نظرِ کرم سرکارؐ ہو جائے
مرے آقاؐ کرم یہ فرمائیں
وہی دورِ مصطفیؐ سا آئے لوٹ کر زمانہ
جو مجھ سے خطا کار و زیاں کار بھی ہوں گے