بابِ جبریل کھلا ہے مرے دل پر اب تک

بابِ جبریل کھلا ہے مرے دل پر اب تک

دیکھتی رہتی ہیں آنکھیں وہی منظر اب تک

 

صبر کی سِل کے تلے آہ کی چنگاری ہے

ہجرِ طیبہ میں ہے دل سینے سے باہر اب تک

 

منتظر ہوں کرمِ سیدِ کونین کا میں

مانگتا رہتا ہوں توفیق کا شہپر اب تک

 

جب سے اُمت ہوئی اخلاصِ عمل سے محروم

مامنِ خیر بنا ہے نہ کوئی گھر اب تک

 

راستہ ہم نے قناعت کا بھلایا جب سے

حیف! کشکول بکف پھرتے ہیں در در اب تک

 

سیلِ گریہ تو رکا ہجرِ مدینہ میں مگر

خون کے اشکوں سے ہے دیدۂ دل تر اب تک

 

جس فضا میں مرے آقا کی صدائیں گونجیں

ہے وہ نفحاتِ تکلّم سے معطر اب تک

 

آپ کی شان کے شایاں نہ کوئی حرف لکھا

شعراء عرصۂ مدحت میں ہیں ششدر اب تک

 

شہرِ سرکار سے لوٹ آیا ہوں لیکن احسنؔ

دیدۂ و دل میں بسا ہے وہی منظر اب تک

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ