اردوئے معلیٰ

Search

بابِ مدحت پہ مری ایسے پذیرائی ہو

لفظ خوشبو ہوں ، خیالات میں رعنائی ہو​

 

ہو اگر بزم ترا نام رہے وردِ زباں

تجھ کو سوچوں جو میسر کبھی تنہائی ہو​

 

وادیء جاں میں پڑاو ہو تری خوشبو کا

گوشہء دل میں تری انجمن آرائی ہو​

 

چاک کرتی ہیں قبا ، فرطِ ہوا سے کلیاں

اے صبا! کوچہء دل دار سے ہوآئی ہو؟​

 

وہ تکلم کہ جسے حسنِ سماعت ترسے

وہ تبسم کہ ہر اک پھول تمنائی ہو​

 

ناقہء شوق اس انداز سے طے ہو یہ سفر

لے حجازی ہو تری ، زمزمہ صحرائی ہو​

 

کس نے دیکھا ہے بہم شام و سحر کو شاکر

ہاں اگر زلف وہ رخسار پہ لہرائی ہو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ