بابِ مدحت پہ مری ایسے پذیرائی ہو

بابِ مدحت پہ مری ایسے پذیرائی ہو

لفظ خوشبو ہوں ، خیالات میں رعنائی ہو​

 

ہو اگر بزم ترا نام رہے وردِ زباں

تجھ کو سوچوں جو میسر کبھی تنہائی ہو​

 

وادیء جاں میں پڑاو ہو تری خوشبو کا

گوشہء دل میں تری انجمن آرائی ہو​

 

چاک کرتی ہیں قبا ، فرطِ ہوا سے کلیاں

اے صبا! کوچہء دل دار سے ہوآئی ہو؟​

 

وہ تکلم کہ جسے حسنِ سماعت ترسے

وہ تبسم کہ ہر اک پھول تمنائی ہو​

 

ناقہء شوق اس انداز سے طے ہو یہ سفر

لے حجازی ہو تری ، زمزمہ صحرائی ہو​

 

کس نے دیکھا ہے بہم شام و سحر کو شاکر

ہاں اگر زلف وہ رخسار پہ لہرائی ہو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بنے ہیں دونوں جہاں شاہِ دوسرا کے لیے
بارگاہ پاک میں پہنچے ثنا کرتے ہوئے
جب تصور میں کبھی گنبد ِ خضراء دیکھوں
ہیچ ہیں دونوں جہاں میری نظر کے سامنے
اشرف الانبیاء ہے ہمارا نبی
ہے عرش پہ قوسین کی جا ، جائے محمد
جھانکوں جو دل میں اپنے، مدینہ دکھائی دے
ضیائے مہر و مہ و کہکشاں جہاں سے ہے
مصروفِ ثنا میں ہے ثناخوانِ محمد
سب سے اعلی ہے نبی کی ذات کہہ