اردوئے معلیٰ

Search

بادۂ عشقِ پیمبر چاہیے

یہ نشہ ہم کو برابر چاہیے

 

گوھرِ دیدار گر درکار ہو

گوشۂ چشمِ غمیں تر چاہیے

 

کرب سے نِکھرے گا اور اُن کا خیال

دل کے آئینے کو جوہر چاہیے

 

اُن کے در پر حاضری کے واسطے

الفت و اخلاص کا زر چاہیے

 

زائرو! ذکرِ حرم کرتے رہو

کچھ علاجِ قلبِ مضطر چاہیے

 

دشمنِ جاں کی بھلائی کے لیے

وسعتِ ظرفِ پیمبر چاہیے

 

جو خدائے پاک کا محبوب ہو

اس حسیں پیکر کو کیونکر چاہیے

 

ذہن میں اُن کا تصوّر ہو مکیں

دل میں اُن کی یاد مضمر چاہیے

 

نعتِ ممدوحِ خدا کے واسطے

لُمعۂ اسُلوبِ داور چاہیے

 

تذکرہ حضرت کا ہوتا ہو جہاں

ایسی مجلس میں نِگوں سر چاہیے

 

حاصلِ احساس ہے لا حاصلی

اب تو کچھ ذکرِ پیمبر چاہیے

 

قریۂ مہ کو سُدھاریں اہلِ دہر

مجھ کو تو سرکار کا در چاہیے

 

رُوح بھی شاداب ہو ہی جائے گی

ذکرِ آقا میں زباں تر چاہیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ