بارانِ کرم

(کوئٹہ کی برفباری سے متاثر ہو کر )

 

گردوں سے برستے ہوئے یہ برف کے گالے

تنتے ہوئے ہر سمت ہر اِک چیز پہ جالے

 

دُھنکی ہوئی روئی کی طرح صاف شگفتہ

شفاف ، سبک ، نازک و خودرفتہ و خستہ

 

رخشندہ و تابندہ و رقصندہ جوانی

یہ برف کی بارش ہے کہ پریوں کی کہانی

 

دوشیزگیٔ شام و سحر کے یہ سنبھالے

چھائے ہوئے بکھرے ہوئے ہر سمت اُجالے

 

چاندی میں نہائے ہوئے یہ کوہ و بیاباں

ہے عام بہ عنوانِ طرب زیست کا ساماں

 

انوار کا ٹیکہ ہے پہاڑوں کی جبیں پر

غالیچۂ سیمیں ہے بِچھا ہے جو زمیں پر

 

موتی ہیں کہ دامن میں کوئی رول رہا ہے

جوبن کی ترازو میں سحر تول رہا ہے

 

ہر برگ و شجر رشکِ تنِ یاسمنی ہے

صحن و درو دیوار کی کیا سِیم تنی ہے

 

گو عارضی بخشش سہی فطرت کی یہ چھل ہے

ہر ایک مکاں آج یہاں تاج محل ہے

 

شوخیٔ مناظر میں نظر کھوئی ہوئی ہے

زانوئے شبستاں پہ سحر سوئی ہوئی ہے

 

چمپا سے چنبیلی سے ہراک زلف گُندھی ہے

ہر ایک سر ِ کوہ پہ دستار بندھی ہے

 

یا چشمے پہ جیسے کوئی مہناز بنا کر

بیٹھی ہے بصد ناز اداؤں کو چُرا کر

 

ہے وادیٔ بولان کہ حوروں کا بسیرا

ہر گام پہ حانی نے لگا رکھا ہے ڈیرا

 

چاندی کا کٹورا ہے سرِ آب پڑا ہے

بِلّور کا ساغر ہے کہ صہبا سے بھرا ہے

 

ہر ذرے سے جوبن کی کرن پھوٹ رہی ہے

انوار سے ظلمت کی کمر ٹوٹ رہی ہے

 

ہیں کوثر و تسنیم بھی، ساقی بھی ہے، مے بھی

ہے ساز بھی، مضراب بھی ،آواز بھی ‘لَے بھی

 

مطلوب بھی موجود ہے ،طالب بھی، طلب بھی

پائل بھی ہے ،جھنکاربھی ،مطرب بھی ،طرب بھی

 

منظر بھی ہے، منظور بھی، ناظر بھی، نظر بھی

ہے ناز بھی‘ انداز بھی‘ اندازِ دگر بھی

 

ہیں ارض و سما ، کون و مکاں نور میں غلطاں

بارانِ کرم ہے کہ اترتا ہوا قرآں

 

ہر منظرِ پُر کیف پہ جنت کا گماں ہے

سڑکوں پہ پڑی برف ہے یا کا ہ کشاں ہے

 

ہر ذرّہ ہے مہتاب ، ہر اِک ذرّہ ہے خورشید

ہے برف کہ اک جشنِ جہاں تاب کی تمہید

 

اس برف سے رعنائی و شوخیٔ گل ِ تر

یہ برف ہے پیشانیٔ بولان کا جھومر

 

یہ برف بلوچوں کی دعاؤں کا ثمر ہے

یہ برف نہیں فصلِ بہاراں کی خبر ہے

 

اس برف سے مہوش تری تصویر بناؤں

بت ساز بنوں اور صنم دل میں بٹھاؤں

 

ڈرتا ہوں مگر برف پگھل جائے گی اک دن

انفاس کی حدت سے یہ گل جائے گی اک دن

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

(برگد جیسے لوگوں کے نام)
سید فخرالدین بلے علیگ : امید و رجا کے صاحبِ طرز شاعر اور دیدہ ور ادیب
خلانورد ہیں ایسے بھی جو ستاروں میں
خوشبو رہی چمن میں نہ وہ رنگ رہ گیا
رُخصتی
میرے گھر میں بھی کہکشاں کی طرح
ہے چُبھن مستقل قرار کے ساتھ
معراج نامہ از امام احمد رضا خان بریلوی
نہ آئینے کا بھروسہ نہ اعتبار نظر
کھلیں گلاب تو آنکھیں کھلیں اچُنگ چلے

اشتہارات