اردوئے معلیٰ

بارگاہ پاک میں پہنچے ثنا کرتے ہوئے

بارگاہ پاک میں پہنچے ثنا کرتے ہوئے

مدعا پایا ہے عرض مدعا کرتے ہوئے

 

بے نیاز نعمت کون و مکاں ہوتے گئے

کوچہ سلطان عالم میں صدا کرتے ہوئے

 

دیدہ و دل میں گل جلوہ سمٹتے ہیں کہاں

کب یہ صورت سامنے تھی التجا کرتے ہوئے

 

کب مجھے تھی جاں کی پرواہ ، کب مجھے تھا سر کا ہوش

سجدہ شکر ان کی مسجد میں ادا کرتے ہوئے

 

کوئی آنے جانے والا ہر گھڑی نظروں میں تھا

کھوئے یو نظارہ غار حرا کرتے ہوئے

 

لوگ چمکاتے چلے جائیں گے اپنے روز و شب

اسوہ سرکار سے کسب ضیاء کرتے ہوئے

 

رمز ہستی ، راز فطرت، سر ذات و کائنات

ہر خبر پائی تلاش مصطفی کرتے ہوئے

 

التفات سید سادات کب محدود ہے

وسعت دامن بھی دیتے ہیں عطا کرتے ہوئے

 

تھام کر دامن کو ان کے بے محاہا رو دیا

میں کہ گھبراتا تھا ان کا سامنا کرتے ہوئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ