بامِ قوسین پر ہے علم آپ کا

بامِ قوسین پر ہے علم آپ کا

کوئی ہمسر نہیں ذی حشم آپ کا

 

لائقِ شان الفاظ ملتے نہیں

کیسے ہوگا قصیدہ رقم آپ کا

 

بعدِ خلاقِ عالم، شہِ بحر و بر

نام اونچا خدا کی قسم آپ کا

 

نعت کہنے کی دی ہے اجازت مجھے

مجھ خطا کار پر ہے کرم آپ کا

 

دل میں سرشاریاں رقص کرنے لگیں

نام سنتے ہی شاہِ امم آپ کا

 

اس زمیں پر فلک رشک کرتا رہا

جس زمیں پر پڑا ہے قدم آپ کا

 

وجہِ کون و مکاں، روحِ کونین ہیں

دو جہاں کو جِلاتا ہے دم آپ کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حضورؐ بندۂ عاجز گناہگار ہوں میں
تمام عمر کا حاصل حصول صلِ علیٰ
ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے
وہی روحِ روانِ بزمِ امکاناتِ دو عالَم
سخن کے خار زار کو حسِیں گُلاب مل گئے
مرے قریۂ شبِ تار میں کوئی بھیج لمحۂ روشنی
وہ ایک شخص دو عالم کی سروری والا
مدّاحِ مصطفیٰ ہوں ، مقدر کی بات ہے
شاہ دیں کا کلمہ جو پڑھتا نہیں
ملے جس سے قلب کو روشنی وہ چراغِ مدحِ رسول ہے

اشتہارات