اردوئے معلیٰ

بخشی گئی جو نعمتِ مدح و ثنا مجھے

بخشی گئی جو نعمتِ مدح و ثنا مجھے

’’شاید کبھی لگی تھی کسی کی دعا مجھے‘‘

 

حیرت سے دیکھتے ہیں سبھی اغنیا مجھے

اتنا مرے نبی نے کیا ہے عطا مجھے

 

رکھتا ہوں دل میں خواہشِ دیدارِ شہرِ نور

لے چل درِ حضور پہ بادِ صبا مجھے

 

مانگا ہے میںنے ان کے وسیلے سے جب کبھی

رب نے دیا ہمیشہ طلب سے سَوا مجھے

 

دیدارِ مصطفی ہی مرے غم کا ہے علاج

دیتے رہو طبیبو! کوئی بھی دوا مجھے

 

اعزاز کم نہیں ہے یہ آصف مرے لیے

پہچانتے ہیں طیبہ کے سارے گدا مجھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ