اردوئے معلیٰ

Search

برف کے فرش پہ قدموں کو جما کر کھینچوں

عمر کا بوجھ مری جان دعا کر کھینچوں

 

دم جو گھٹتا ہے بہر طور گھٹا جاتا ہے

یوں تو میں سانس بہت زور لگا کر کھینچوں

 

ایک منظر کہ جسے دید لٹا کر دیکھا

اس کا نقشہ ہے کہ آواز گنوا کر کھینچوں

 

اس سرے سے بھی مری لاش گھسٹتی آئے

میں اگر خواب کو زنجیر بنا کر کھینچوں

 

بھیڑ ہے اور سراسیمہ ہوا بیٹھا ہوں

تیرا دامن جو میسر ہو تو جا کر کھینچوں

 

جھک کے جو محو تماشہ ہے ابھی ناو سے

ڈوب جاوں کہ اسے ہاتھ بڑھا کر کھینچوں

 

تار ہو کر جو کبھی اپنے جگر سے گزروں

دوسری سمت سے پھر آپ ہی آ کر کھینچوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ