(برگد جیسے لوگوں کے نام)

کوئی بھی رُت ہو چمن چھوڑ کر نہیں جاتے

چلے بھی جائیں پرندے، شجر نہیں جاتے

 

ہوا اُتار بھی ڈالے اگر قبائے بدن

بلند رکھتے ہیں بازو بکھر نہیں جاتے

 

گئی رتوں کے سبھی رنگ پہنے رہتے ہیں

شجر پہ رہتے ہیں موسم گذر نہیں جاتے

 

خمیر بنتے ہیں مٹی کا ٹوٹ کر بھی شجر

جنم دوبارہ سے لیتے ہیں، مر نہیں جاتے

 

جو برگ و بار سے عاری ہوں، سائے سے خالی

وہ کٹ کے جلتے ہیں سو بے ثمر نہیں جاتے

 

شجر تو ان کے بھی ناموں کو زندہ رکھتے ہیں

وہ بد نصیب جو گھر لوٹ کر نہیں جاتے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بولوں تو ساری دنیا اُسے جان جائے گی
وہ کلاہِ کج، وہ قبائے زر، سبھی کچھ اُتار چلا گیا
جنگ اندھیرے سے بادِ برہم تک
نشانِ منزلِ من مجھ میں جلوہ گر ہے تو
سب کاروبار نقد و نظر چھوڑنا پڑا
اک بادباں شکستہ طغیانیوں میں دیکھا
ذرا سا بچ کے چلو کاٹتا ہے، کُتّا ہے
تُم
ہم لوگ
محسنہ