برگِ گل، شاخ ہجر کا کر دے

برگِ گل، شاخ ہجر کا کر دے

اے خدا! اب مجھے ہرا کر دے

 

ہر پلک ہو نم آشنا مجھ سے

میرا لہجہ بہار سا کر دے

 

مجھ کو روشن مرے بیان میں کر

خامشی کو بھی آئینہ کر دے

 

بیٹھ جاؤں نہ تھک کے مثل غبار

دشت میں صورتِ صبا کر دے

 

میری تکمیل حرف و صوت میں ہو

مجھے پابند التجا کر دے

 

کون دستک پہ کان دھرتا ہے

تو مرے ہاتھ دل کشا کر دے

 

اے جمالِ دیار کشف و کمال

موجۂ رنگ کو نوا کردے​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نام بھی تیرا عقیدت سے لیے جاتا ہوں
جس دل میں نور عشق ہے ذات الہ کا
الہیٰ ! جب سے تجھ سے رابطہ ہے
ترے کرم تری رحمت کا کیا حساب کروں
خدا ہے حامی و ناصِر ہمارا
خدایا میں نحیف و ناتواں کمزور انساں ہوں
سدا دِل میں خدا کی یاد رکھنا
کہوں حمدِ خدا میں کس زباں سے
ترے انوار دیکھوں یا خُدا مجھ کو نظر دے
خدا قائم ہے دائم جاوداں ہے