بزمِ رسولِ پاک سجانے کا وقت ہے

 

بزمِ رسولِ پاک سجانے کا وقت ہے

سوئے ہُوئے نصیب جگانے کا وقت ہے

 

دل میں نبی کی یاد بسانے کا وقت ہے

ہر وقت ، نعت سننے سنانے کا وقت ہے

 

دنیا کو اب کہاں کسی خاطر میں لاؤں میں

اب تو مرا مدینے کو جانے کا وقت ہے

 

مژدہ ملے گا حشر میں عصیاں کے ماروں کو

ان سے شفاعت آج کرانے کا وقت ہے

 

ذکرِ رسول و آلِ رسولِ خدا کرو

صدقہ حسن حسین کا پانے کا وقت ہے

 

دنیا کی گفتگو کو کوئی اور وقت دو

یہ وقت نعت سننے سنانے کا وقت ہے

 

دیکھو تو ہے یہ محفلِ میلادِ مصطفےٰ

سوچو تو اپنی بگڑی بنانے کا وقت ہے

 

شہرِ نبی سے لوٹ کے آتے ہوئے مجھے

"ایسا لگا کہ جان سے جانے کا وقت ہے ”

 

کعبہ ہے سجدہ ریز ، ستارے جھکے جھکے

اللہ کے حبیب کے آنے کا وقت ہے

 

ہشیار ، دست بستہ ، جبیں خم ، ہو با ادب

اُٹھّو ! حضورِ پاک کے آنے کا وقت ہے

 

پچھلا پہر ہے ،نعتِ محمد ہے اور اشک

دانش ! یہ ان کی یاد منانے کا وقت ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اشک کو صَوت نہ کر، صَوت کو گفتار مکُن
کمالِ جستجو تُو ہے، جمالِ آرزو تُو ہے
کتابِ عرشِ ثنا کا عنواں ـ’’انا محمد‘‘
مرا دل تڑپ رہا ہے
نبی اکرمؐ شفیع اعظمؐ دکھے دلوں کا پیام لے لو
آنکھ گنبد پہ جب جمی ہوگی
جب چھڑا تذکرہ میرے سرکار کا میرے دل میں نہاں پھول کھلنے لگے
صبح بھی آپؐ سے شام بھی آپؐ سے
جو شمع یادِ نبی کی جلائی جاتی ہے
ایسا بھی کوئی خواب خدایا دکھائی دے