اردوئے معلیٰ

Search

بس ایک جیسے ملے لوگ بار بار مجھے

کہ تجربہ نہ ہوا کوئی خوشگوار مجھے

 

بہت دنوں سے جو الجھن ہے ، مجھ کو لگتا ہے

ملے گا جاں سے گزر کر ہی اب قرار مجھے

 

کسی بھی شے کے مناسب جگہ نہیں کوئی

پسند آتا ہے کمرے کا انتشار مجھے

 

میں عمر بھر جسے پلکوں پہ لے کے پھرتا رہا

وہ چاند چہرہ نظر آئے ایک بار مجھے

 

تمام شہر میں ہیں میرے تذکرے قیصرؔ

بنا دیا ہے محبت نے اشتہار مجھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ