اردوئے معلیٰ

بس قتیلِ لذتِ گفتار ہیں

بس قتیلِ لذتِ گفتار ہیں

ہم عمل کرنے کو کب تیار ہیں

 

مدحتِ خیرالبشر کے واسطے

کچھ تو سیرت کے گُہر درکار ہیں

 

یہ شعور اے کاش! اب بیدار ہو

ہم امینِ عظمتِ کردار ہیں

 

نقشِ سیرت دیکھنے کے شوق میں

میری آنکھیں روزنِ دیوار ہیں

 

سیرتوں کے شہر ویراں میں حضور !

زندگی کے کھوکھلے معیار ہیں

 

بے حسی نے ڈال رکھے ہیں حجاب

ورنہ زخموں کے بہت انبار ہیں

 

بے یقینی کا دلوں پر راج ہے

قریہ قریہ خوف کے آثار ہیں

 

اُسوۂ ختم الرسل سے دُور ہیں

اور اُن کے عشق سے سرشار ہیں

 

فکر ہے اخلاص سے خالی مگر

نعت میں الفاظ کے انبار ہیں

 

جلد ڈھل جائے گی شب اِدبار کی

چند لوگوں کے تو دل بیدار ہیں

 

کچھ غلامانِ محمد مصطفیٰ

سر کٹانے کے لیے تیار ہیں

 

ہو عزیزؔ احسن نہ یوں مایوس تو!

اب سحر ہونے کے بھی آثار ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ