اردوئے معلیٰ

بشر رسول کا جو نعت خوان ہو جائے

زمین بخت بشر آسمان ہو جائے

 

مری نگاہ میں وہ بخت کا سکندر ہے

جسے نبی کا بہم آستان ہو جائے

 

بیاں ہو ڈھنگ سے گر اسوۂ رسول امیں

تو شش جہات میں امن و امان ہو جائے

 

سفینہ زیست کا ہرگز نہ ڈگمگائے گا

نبی کا عشق اگر بادبان ہو جائے

 

رسول جسکی طرف چشم التفات کرے

تو بے زبان بھی اہل زبان ہو جائے

 

زمانہ نور ہدایت سے جگمگا اٹھے

اگر بلند بلالی اذان ہو جائے

 

جہاں میں ذکر محمد جہاں بھی ہو نوری

مکاں وہ دھر میں جنت نشان ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات