اردوئے معلیٰ

زد میں امواجِ بلاخیز کے پنجاب آیا

صوبۂ سندھ بھی در حلقۂ گرداب آیا

گاؤں ڈوبے تو کہیں شہر تہِ آب آیا

قہر اللہ کا ٹوٹا ہے کہ سیلاب آیا

 

رات کے وقت یکایک یہ مصیبت آئی

کبھی دیکھی نہ جو درپیش وہ صورت آئی

تھا گماں بھی نہ کبھی جس کا وہ شامت آئی

لوگ گھبرا کے یہ سمجھے کہ قیامت آئی

 

وہی پانی کہ سبک رو تھا بہ حدِّ ساحل

شکلِ طوفاں جو اٹھا چڑھ گیا منزل منزل

پھر نہ محفل رہی باقی نہ چراغِ محفل

جز بپھرتی ہوئی موجوں میں تڑپتے ہوئے دل

 

پانی چڑھتا رہا خطرے کے نشاں کے آگے

ایک غمناک حقیقت تھی گماں کے آگے

بند سب ٹوٹ گئے سیلِ رواں کے آگے

موت تھی رقص میں ہر پیر و جواں کے آگے

 

دیکھنے میں جو نہ آیا تھا وہ منظر آیا

قہرِ سیلاب یہ ایسا تھا کہ گھر گھر آیا

دندناتا ہوا شہروں میں بھی یہ در آیا

ایسا لگتا تھا کہ خشکی پہ سمندر آیا

 

مال و زر غلہ و اسباب و مکاں سب ڈوبا

ہے خدا ہی کو خبر کون کہاں کب ڈوبا

دن دہاڑے کوئی ڈوبا تو کوئی شب ڈوبا

سارا عالم ہی لگا جیسے کہ بس اب ڈوبا

 

کھیتیاں ڈوب گئیں دانۂ و خرمن ڈوبے

ریگ زاروں کا تو کیا ذکر ہے گلشن ڈوبے

کوئی تخصیص نہ تھی شیخ و برہمن ڈوبے

عورتیں بچے ضعیف اور جواں تن ڈوبے

 

سانپ لہرا کے نگل جاتا ہے مینڈک جیسے

موجِ خونخوار نے انسانوں کو نگلا ایسے

دیکھتے دیکھتے انساں گئے کیسے کیسے

گنگناتی رہیں امواج پر اپنی لے سے

 

تابِ گفتن نہیں مجھ میں کہ بیاں اور کروں

دل بھی کہتا ہے اسے ختم میں فی الفور کروں

لیکن اتنا تو بہ ہر حال بہ ہر طور کروں

قہرِ یزداں کے اس انداز پہ کچھ غور کروں

 

ہم کو اللہ نے آزادی کی نعمت بخشی

ہم کو اک ملک دیا اپنی حکومت بخشی

اپنا قرآن دیا اپنی شریعت بخشی

امتحاں گاہ میں رکھ کر ہمیں مہلت بخشی

 

ہم سیہ مست ہوئے ایسے کہ سب بھول گئے

جس نے سب کچھ ہمیں بخشا وہی رب بھول گئے

ترکِ قرآن کیا طاعتِ شب بھول گئے

آئی پھر یاد دہانی ہے کہ جب بھول گئے

 

مل کے توبہ کریں اب آؤ سیہ مستی سے

دامن اپنا ہی چھڑا لیں گے سیہ بختی سے

بات کہتا ہے نظرؔ تجھ سے ذرا سختی سے

نورِ قرآں کے اجالے میں نکل پستی سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات