بلندی پر وہی فائز ہے جس کا بول ہے بالا

بلندی پر وہی فائز ہے جس کا بول ہے بالا

وہ جس نے آدمی کی عقل کو اِک آئنہ بخشا

 

وہ جس نے خیر کے اشجار دنیا میں لگائے ہیں

وہ جس نے نیکیوں کی کھیتیوں کو خون سے سینچا

 

وہ جس رہرو کے چلنے سے صراطِ دیں چمک اُٹھی

وہ جس نے دھوپ میں انسان کے سر پر کیا سایہ

 

دبستاں علم و حکمت کا انہی کی ذات ٹھہری ہے

بفیضِ وحیِ رب بالکل یقینی علم ہے جن کا

 

لپک جن کی محبت کی، دلوں میں روشنی کر دے

انہی کے نام سے لب نے مرے آبِ بقا پایا

 

وہ جن کے حکم پر چل کر درندے بھی بنے انساں

گداز و درد جن کے عشق نے انسان کو بخشا

 

اُخوت کا ملا پیغام جن سے آدمیت کو

اُنہی سے نوعِ انساں نے سبق ایثار کا پایا

 

پیمبر بھی، معلم بھی، مزکیّ بھی، مجاہد بھی

ہر اک میداں میں پرچم سرورِ دیں کا رہا اونچا

 

وہ جن کی مدح میں قرآن کی آیات اُتری ہیں

بلندی پر رہے گا تا ابد، ان کا ہی اب چرچا

 

اندھیرے چھٹ گئے ظلم و تعدی کے زمانے سے

ہدایت کا پھریرا جب مرے آقا نے لہرایا

 

رہی تعلیم جزوی، سیدالکونین سے پہلے

معلم بن کے سب آئے نبی آدم سے تا عیسیٰؑ

 

انہی کی ذات ہے وجہِ بِنائے عالمِ امکاں

وہی قندیلِ بابِ مشرقین و عبدِ بے ہمتا

 

اُنہی کی عظمتوں پر آدمیت ناز کرتی ہے

جنہیں خالق نے ختم المرسلیں کا تاج پہنایا

 

وہ جس نے اُن کی تعلیمات پر گہری نظر رکھی

عمل اس کا ہی دنیا میں رہا معیار کا پکا

 

فلاحِ دین و دنیا بالیقیں اس کا مقدر ہے

کہ جس نے زندگی بھر آپ کی سنت کو اپنایا

 

عزیزؔ احسن مقدم اِتِّباعِ شاہِ دیں رکھو!

سنو! مستغنیٔ مدحت ہے، اُن کے لطف کا دریا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ