اردوئے معلیٰ

بنامِ مصطفےٰ ہو امن یا رب پھر کراچی میں

بنامِ مصطفےٰ ہو امن یا رب پھر کراچی میں

مرے کشمیر کے بھی دن سدھر جائیں تو اچھا ہو

 

میں جن کو روح کے قرطاس پہ محسوس کرتا ہوں

وہ جذبے کاش کاغذ پر اتر جائیں تو اچھا ہو

 

وہاں کیسی محبت دل جہاں سجدوں سے قاصر ہو

جبینِ دل کو لے کر ان کے در جائیں تو اچھا ہو

 

خیالوں میں کئی الفاظ نے آ کر تمنا کی

نبی کی نعت سے ہم بھی سنور جائیں تو اچھا ہو

 

اسی ہی آسؔ میں رہتی ہیں اکثر منتظر آنکھیں

بلاوا آئے، ہم با چشمِ تر جائیں تو اچھا ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ