اردوئے معلیٰ

بن گئی بات ان کا کرم ہو گیا شاخ نخل تمنا ہری ہو گئی

بن گئی بات ان کا کرم ہو گیا شاخ نخل تمنا ہری ہو گئی

میرے لب پر مدینے کا نام آ گیا بیٹھے بیٹھے مری حاضری ہو گئی

 

مجھ پر رحمت ہوئی میرے رب کی بڑی مہرباں ہو گیا کملی والا نبی

پڑھ کے سویا درود ان پہ میں جس گھڑی پھر زیارت مجھے پ کی ہو گئی

 

کتنا بے کیف تھا میکدے کا سماں دل کا پیمانہ تھا کرچیاں کرچیاں

جس گھڑی آ گئے ساقی دو جہاں محفل میکشاں مدھ بھری ہو گئی

 

فرش پر بھی ہوا ذکر صل علی عرش پر ہوا چرچا سرکار کا

ہر طرف سج گئی محفل مصطفی ہر طرف یا نبی یا نبی ہو گئی

 

محفل نعت میں آیا جایا کرو اپنے سوئے مقدر جگایا کرو

محفل نعت میں آ کے بیٹھا ہے جو اس کی واللہ طبیعت غنی ہو گئی

 

جب میں پہنچا در شہ لولاک پر جھک گیا خود بخود ان کی چوکھٹ پہ سر

غیب سے آئی آواز اے بے خبر جا تری کھوئی قسمت کھری ہو گئی

 

سبز گنبد کے بیٹھا ہوں سائے تلے جالیوں کے بھی جی بھر کے بوسے لیے

نقش پائے نبی پر ہیں سجدے کیے یوں معتبر بندگی ہو گئی

 

جھونکے ٹھنڈی ہواؤں کے آنے لگے لوگ آنکھوں پر اپنی بٹھانے لگے

میری جس دن سے اے تاجدار حرم دوستوں سے ترے دوستی ہو گئی

 

مجھ پہ کتنا نیازی کرم ہو گیا دنیا کہنے لگی پنجتن کا گدا

اس گھرانے کا جب سے میں نوکر ہوا سب سے اچھی مری نوکری ہوگئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ