اردوئے معلیٰ

Search

بولنا سیکھا تو یہ بات کہی

نعت بچپن سے مرے ساتھ رہی

 

آج دیدار کی خیرات ملے

کاسۂ چشم رہے اب نہ تہی

 

چاند ٹوٹا کبھی سورج پلٹا

بات جو تو نے کہی، ہو کے رہی

 

تاجِ نسبت ہے غلاموں کو نصیب

اِس غلامی پہ ہے قربان شہی

 

شافعِ حشر ہیں محبوبِ کریم

عاشقِ زار گنہ گار سہی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ