اردوئے معلیٰ

 

بُروں سے بُرا ہوں کرم کیجیے گا

حضور آپ کا ہوں کرم کیجیے گا

 

نصیبوں کا مارا زمانے کے ہاتھوں

میں ٹوٹا ہوا ہوں کرم کیجیے گا

 

عمل کوئی میرا نہیں میرے آقا

میں یہ جانتا ہوں کہ کرم کیجیے گا

 

جو رُو رُو کے منگتے سبھی مانگتے ہیں

وہی مانگتا ہوں کرم کیجیے گا

 

جہاں نامِ نامی سنائی دیا ہے

وہیں جھومتا ہوں کرم کیجیے گا

 

تڑپتا ہوا آج دامن دریدہ

میں پھر آگیا ہوں کرم کیجیے گا

 

یہی ان سے مسرور کہتے ہی رہنا

کرم چاہتا ہوں کرم کیجیے گا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات