اردوئے معلیٰ

بُوند خوشبوئے ہوا ہے جو سمندر سے اُٹھے

بُوند خوشبوئے ہوا ہے جو سمندر سے اُٹھے

گھر نہیں جاتا وہ کافر جو ترے درسے اُٹھے

 

اک تجلی سے ہوا حسنِ تجلی کا ظہور

اور پھر سارے نظارے اسی منظر سے اُٹھے

 

اسی بھائی کو لقب سجتا ہے مولائی کا

جو ترے کاندھوں پہ بیٹھے ترے بستر سے اُٹھے

 

کتنے حاکم تھے جو پہنچے نہ تری گرد تلک

کتنے عالم تری قامت کے برابر سے اُٹھے

 

مصرعہِ حسنِ ثنا ، بابِ نظارہ کھولے

زلفِ محبوبِ خدا چہرہِ انور سے اُٹھے

 

آپ کے اِذن میں تھی تابِ تکلم ورنہ

کیسے ممکن ہے صدا ہاتھ میں، پتھّر سے اُٹھے

 

کس نے جانا ہے مدینے جو صبا نے پوچھا

اوس کے ہاتھ کئی بار گلِِ تر سے اٹھے

 

عشق لکنت میں بھی تاثیر بنا دیتا ہے

دلنشیں ہوتی ہے آواز جو اندر سے اُٹھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ