بڑی امید ہے سرکار قدموں میں بلائیں گے

بڑی امید ہے سرکار قدموں میں بلائیں گے

کرم ہوگا کبھی ہم پر، مدینے ہم بھی جائیں گے

 

نظر میں اس کے جلوے عرشِ اعظم کے سمائیں گے

درِ سرور پہ جو سجدے عقیدت کے لُٹائیں گے

 

دلوں میں جو دئیے ان کی محبت کے جلائیں گے

یقیناً وہ سراغِ منزل مقصود پائیں گے

 

اگر جانا مدینے میں ہوا ہم غم کے ماروں کا

مکینِ گنبدِ خضرا کو حالِ دل سنائیں گے

 

گنہگاروں میں خود آ آ کے ہوں گے پارسا شامل

شفیعِ حشر جب دامانِ رحمت میں چھپائیں گے

 

قیامت تک جگائیں گے نہ پھر منکر نکیر اُن کو

لحد میں وہ جنہیں اپنا رُخِ زیبا دکھائیں گے

 

قسم اللہ کی مجھ کو، وہ منظر دیدنی ہوگا

قیامت میں رسول اللہ جب تشریف لائیں گے

 

اُدھر برسے گا بارانِ کرم میدانِ حشر میں

جدھر بھی رحمتِ عالم نگاہوں کو اٹھائیں گے

 

غمِ رشقِ نبی سے ہوگا جب معمور دل نیّر

ترے ظلمت کدے میں بھی ستارے جگمگائیں گے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ضیائے سدرہ و طوبیٰ و کل جہاں روشن
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
زمیں سے تا بہ فلک ایسا رہنما نہ ملا
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
ہوئے جو مستنیر اس نقشِ پا سے
حَیَّ علٰی خَیر العَمَل
بس قتیلِ لذتِ گفتار ہیں
تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ
قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی
نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی

اشتہارات