بھر دو داماں ہمارے آپ کی چوکھٹ پہ آئے ہیں

بھر دو داماں ہمارے آپؒ کی چوکھٹ پہ آئے ہیں

کہ ہاتھوں کو پسارے آپؒ کی چوکھٹ پہ لائے ہیں

 

سفینہ ہے بھنور میں ناخدا بھی پست ہمت ہے

دکھا بھی دو کنارے غم بادل گھر کے آئے ہیں

 

اسی در سے ملا ہے اور اسی در سے ملے گا بھی

سخاوت کے کرشمے ہم کو خواجہؒ نے دکھائے ہیں

 

مقدس آستانہ ہے عطائے مصطفی کا یہ

مرادوں کے دیئے ہم نے یہاں آ کر جلائے ہیں

 

فداؔ فرمائیں گے خواجہؒ کرم تجھ پر یقیں کر لے

ستارے اشکِ غم کے تو نے پلکوں پر سجائے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ