بھر دیئے گئے کاسے، بے بہا عطاؤں سے

بھر دیئے گئے کاسے، بے بہا عطاؤں سے

پوچھنا مدینے سے، لوٹتے گداؤں سے

 

ان کے عشق کا امرت، پی لیا تھا گھٹی میں

ان کا نام سیکھا تھا، ہم نے اپنی ماؤں سے

 

سرورِ امم مجھ کو، اذنِ لب کشائی دیں

حرفِ نعت لایا ہوں، اپنے ساتھ گاؤں سے

 

اے حبیبِ ما اب تو، مرہمِ زیارت دیں

مارِ ہجر ڈستا ہے، مجھ کو سب دشاؤں سے

 

آپ بس اشارہ دیں، ہم کشاں کشاں آئیں

خواہشِ سفر ہم نے، باندھ لی ہے پاؤں سے

 

یہ جو ہم مدینے میں، جا کے جی سے جاتے ہیں

ہم کشید کرتے ہیں، زندگی فضاؤں سے

 

حشر میں بھی ہم ناعت، لطف لے رہے ہوں گے

سبز سبز گنبد کی، نرم نرم چھاؤں سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تمنا ہے کہ چوموں ان کے در کو
کمتر تھا جذب و شوق، کرم بیشتر رہا
ذکر شاہ ھدیٰ ہے نعت رسول
نعت پیکر باندھتی ہے اذن کی تاثیر سے
لب شاد ، زباں شاد ، دہن شاد ہوا ہے
نعتِ پیغمبرؐ لکھوں طاقت کہاں رکھتا ہوں میں
فہمِ بشر سے ماورا اُن کا مقام ہے
سرتاجِ انبیاء ہو شفاعت مدار ہو
محوَرِ حُسنِ دو عالم شاہِ خُوباں لُطف کُن
کس درجہ تلفظ آساں ہے معناً بھی نہایت اسعد ہے

اشتہارات