اردوئے معلیٰ

Search

بہجت افزائی کرے اسمِ معطر تیرا

غنچہِ حرف میں روشن ہوا پیکر تیرا

 

وسعتیں ، تیری کرامات کی گرویدہ ہیں

پانی بھرتے ہیں جہاں بھر کے سمندر، تیرا

 

یادلے آتی ہے جب آنکھوں میں ابرِنیساں

دل کی سیپی میں چمک اٹھتا ہے گوہر تیرا

 

رنگ و انوار سے معمور تھی” ہستی” کتنی

دیکھ کر اُٹّھی تھی جب چہرہِ انور تیرا

 

عشق ہی کافی ہے، اسبابِ جہاں جتنا ہو

بانٹ دیتا ہے غریبوں میں تونگر تیرا

 

جسمِ اطہر کو ترے چُوما کیا جس جس نے

ہم کو ہر سنگ ہے اسود کے برابر تیرا

 

اتنا گہرا ہے ترے جود و کرم کا دریا

ڈوبنا چاہے گا خود اس میں شناور تیرا

 

ہم ہوئے ہیں جو مسلمانوں کے گھر میں پیدا

بعد اللہ کے ہے احسان یہ ہم پر تیرا

 

اس لیے ان کی جبینوں میں درخشانی ہے

دیکھتے رہتے ہیں روضہ، مہ و اختر تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ