اردوئے معلیٰ

Search

بہ فرطِ سوز و محبت یہ معجزہ ہو جائے

کہ دل مدینہ بنے ، آنکھ کربلا ہو جائے

 

گلی میں ان کی الگ ہیں رموزِ سُلطانی

وہاں وہی ہے شہنشاہ ، جو گدا ہو جائے

 

کفَن مدینے کے بازار کا ملے اور پھر

مری جو خاک اُڑے زینتِ ہَوا ہو جائے

 

ھُما ، چھپاتے پھریں منہ ہمارے سایوں سے

سروں پہ سایہءِ گنبد اگر ،رِدا ہوجائے

 

ندامتوں کے سوا کچھ نہیں ہے پاس مرے

میں کیا کہوں گا اگر ان سے سامنا ہو جائے

 

دیارِ نُور میں جب آنکھ میرے بس میں نہیں

تو اِن نظاروں میں کیسے یہ دل ، مِرا ہو جائے

 

میانِ عشق و ادَب چشم ولب یہ کہتے ہیں

رہوں خموش مگر عرض مدّعا ہو جائے

 

مرے حضور محبت سے جب کلام کریں

دلوں میں حسنِ تکلم سے راستہ ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ