اردوئے معلیٰ

بہ چشمِ تر وہ مرا لوٹنا مدینے سے

بہ چشمِ تر وہ مرا لوٹنا مدینے سے

پھر ان کو دور تلک دیکھنا مدینے سے

 

گداز ، آنکھوں میں آبِ ملال کھینچتا ہے

کوئی بھی چلتا ہے جب قافلہ مدینے سے

 

بہت بڑا ہے یہ احسان یار جا کے وہاں

ذرا سی د،یر ،مجھے سوچنا، مدینے سے

 

ہزار اشکِ ندامت ہیں سست رَو لیکن

ندی بنائے گی اک راستہ مدینے سے

 

وہ چاند دیتا ہے عالم کو حسنِ ضو ریزی

کہ بن کے چلتا ہے جب آئنہ مدینے سے

 

بہارِ سبز سجانی ہے زرد رنگت پر

تُو لے کے آنا ذرا آئنہ مدینے سے

 

سفرہو مکہ کی جانب یا کربلا سے شام

شروع ہوتا ہے سب سلسلہ مدینے سے

 

میرا نبی تو وہاں بھی ردائیں تانتا ہے

جہاں ہو نظمِ ریاست جدا مدینے سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ