اردوئے معلیٰ

Search

بہ ہر طریق کوئی ، ناز آفرین نہیں

جہاں میں کوئی بھی سرکار سا حسین نہیں

 

خیال شعر میں ڈھالا تو یہ لگا مجھ کو

فضائے چرخ ہے یہ نعت کی زمین نہیں

 

ثنائے شاہ ِمدینہ کی ہے ڈگر پہ ، رواں

سو اب سمندِ قلم سے گرے گی زین نہیں

 

خدا کا عشق محمد سے ہے دلیل اس کی

ہمارے دین سے بہتر کوئی بھی دین نہیں

 

گماں شکن ہے حقیقت کہ وجہِ کن ہیں آپ

سو اس کے بعد کوئی منزلِ یقین نہیں

 

گواہی آپ کے اعدا نے بھی یہی دی ہے

کہ آپ جیسا کوئی صادق و امین نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ