اردوئے معلیٰ

بیاں کب ہو کسی سے مرتبہ صِدِّیْقِ اَکْبَرْ کا

کہ ہے خود یار محبوب خدا صِدِّیْقِ اَکْبَرْ کا

 

نبی کے بعد دنیا میں ہے افضل آپ کا درجہ

نبی کے در سے یہ رتبہ بڑھا صِدِّیْقِ اَکْبَرْ کا

 

فدا کرتے ہیں یوں تو جاں سبھی حکم پیمبر پر

نبی کے دین پر گھر بھی لٹا صدیق اکبر کا

 

صحابہ ہی ہیں افضل بالیقیں سارے مسلماں میں

مگر ثانی نہیں ہے دوسرا صِدِّیْقِ اَکْبَرْ کا

 

یقیناً سب سے افضل آپ ہی ہیں چار یاروں میں

صحابہ میں ہے یکتا مرتبہ صِدِّیْقِ اَکْبَرْ کا

 

نہ چھوڑے ساتھ انکا ہر گھڑی ہمراہ رہے انکے

نبی کو غار میں بھی ساتھ تھا صِدِّیْقِ اَکْبَرْ کا

 

مرے آقا سے انکو دیکھ لو کس قدر چاہت ہے

کہ مدفن بھی نبی کا در بنا صِدِّیْقِ اَکْبَرْ کا

 

صحابی ہو ولی ہو غوث ہو یا کہ قلندر ہو

رہے گا سب پہ بھاری مرتبہ صِدِّیْقِ اَکْبَرْ کا

 

نبی کے وہ ہیں شیدائی نبی پہ جان دیتے ہیں

جہاں میں ہر طرف شہرا ہوا صِدِّیْقِ اَکْبَرْ کا

 

نبی کے فیض کا دریا بہاتے ہیں جہاں میں وہ

کہ منگتوں کے لئے در ہے کھلا صِدِّیْقِ اَکْبَرْ کا

 

خدا کا فضل ہوتا ہے بڑا انکے گداؤں پر

زہے قسمت ہے شاہد بھی گدا صِدِّیْقِ اَکْبَرْ کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات