بیٹی کے نام خط (۱ )

جان سے پیاری بیٹی
السلام علیکم
میری پیاری بیٹی دنیا عجائب خانہ ہے ۔ اور اس عجائب خانے کی عجیب بات یہ ہے کہ تمھاری ماں ہو کر مجھے کچھ باتیں تم سے اس خط کے ذریعے کرنی پڑ رہی ہیں ۔
زندگی ایسے موڑ پہ ہے میری جان جہاں ایک ماں عجیب بے بسی محسوس کرتی ہے ۔ اپنی جوان ہوتی بچی کو معاشرے کی درندگی سے ڈرا کر خوف زدہ کر دے یا اتنانڈر بنا دے کہ وہ خود بھی بسااوقات درندہ بن جائے ۔
میری بچی میانہ روی کی راہ بڑی کھٹن ہے ۔ لیکن یہی بہترین راستہ ہے ۔ یہ وہی راستہ ہے جس کے اختتام پہ وہ منزل موجود ہے جہاں پہنچنے پر سستایا جا سکتا ہے ۔
میری بیٹی ! اس دنیا میں سر اٹھا کر جینے کا ایک چلن ہمیشہ یاد رکھنا۔ دنیا میں ہر انسان کی عزت کرنا لیکن صنفِ مخالف کے لیے اپنا ایک اصول وضع کرنا کہ ان کے اورتمھارے بیچ کھینچی گئی لائن واضح اور انمٹ ہو ۔ اس لائن کے پار تمھیں خود بھی کبھی نہیں جانا اوراس لائن کو پار کرنے کی اجازت بھی کبھی کسی کو مت دینا ۔
میری بیٹی تم عورت ہو اس بات کا اپنی طاقت بنانا اسے اپنی کمزوری کبھی مت سمجھنا۔ سر اٹھا کے جینا اور چھوٹے چھوٹے غموں پہ واویلا کبھی مت کرنا ۔ جو چیزیں تکلیف دیتی ہیں ان تکالیف کا تذکرہ اگر ہمہ وقت بہ آواز بلند کیا جاتا رہے تو وہ آپکی نفسیات پہ برے اثرات مرتب کر کے آپکوکمزور کر دیتی ہیں ۔
اگر ہم ایک گھنٹہ یہ کہتے ہوئے گزار دیں کہ گرمی ہے ۔ تو گرمی ختم نہیں ہو جاتی لیکن احساس شدت پکڑ لیتا ہے ۔ جب کہ اسی گرمی کو صبر اور خاموشی کے ساتھ گزارنے پہ اللہ آپکے دل کو تھام لیتا ہے ۔
میری بیٹی ! دنیا میں اللہ کے ماسوا کبھی کسی سے مت ڈرنا۔
تم عورت ہو اس پاک رب نے تمھیں نازک اندام بنایا لیکن یاد رکھو شیشے کا بلوریں جام ٹوٹے تو اسکا کانچ توڑنے والے ہاتھوں کو لہو لہان کر جاتا ہے ۔
جس دن تمھیں اس بات کا ادراک ہو گیا کہ تم صرف ایک خوبصورت شو پیس نہیں ہو ۔ وقت پڑنے پہ ایک تیز دھار آلہ بن سکتی ہو اس دن تم سے اپنے دشمن سے ہمیشہ کے لیے گھبرانا چھوڑ دو گی ۔
میری پیاری بیٹی ! گدھ مردار کھاتا ہے کیونکہ مردار کھانے کے لیے محنت نہیں کرنی پڑتی مشقت نہیں اٹھانی پڑتی وہ تیار مل جاتا ہے ۔لیکن شاہین شکار کر کے کھاتا ہے ۔ وہ گھات لگاتا ہے محنت کرتا ہے اڑان بھرتا ہے اور اپنی تیز نگاہوں سے شکار کی موجودگی کا یقین کرتا ہے ۔لیکن جب حملہ کرتا ہے تو ایسی مضبوط گرفت ہوتی ہے کہ شکار مر تو سکتا ہے لیکن اس شکنجے سے خود کو آزاد نہیں کروا سکتا ۔
دنیا میں جہاں بھی تم اپنے آس پاس کے گدھ نما انسانوں کو زمین پہ چھوڑ کر اونچی اڑان بھرو گی تو حسد کے مارے گدھ تمھیں فقط ایک بات سے ذلیل کرنے نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے ۔
” بھئی آخر کو ہے تو عورت ”
” ارے عورتوں کی اتنی سمجھ کہاں ”
اور جو راجا گدھ ہونگے وہ اس سے بڑھ کر گندی اور غلیظ زبان کا استعمال کرتے ہوئے یہ بھول جائیں گے کہ وہ ایک عورت کےبطن سے پیداہوئے۔
ہر وہ انسان چاہے وہ مردہو یا عورت جسےانسانوں کےشرف کا پاس نہیں وہ نہ انسان کہلانے کے لائق ہے اور نہ کوئی بھی کسی بھی قسم کی صنف ۔ اسلیےمیری بچی ایسے حیوانوں کی باتوں کودرگزر کر کے اپنے فلاح کے سفر میں آگے بڑھتی جانا۔
میری بیٹی فلاح کیا ہے اس پہ انشاء اللہ اگلے خط میں تمھیں مطلع کرونگی۔
خوش رہو ۔
اللہ تمھیں ہمیشہ اپنی امان میں رکھے۔
فقط تمھاری ماں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
سفر (حصہ اول)
پانچویں ملاقات
سفر (حصہ دوم)
راول کا پنڈ ' راولپنڈی
چرواہا
چودہ اکتوبر کے نام
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
خط بنام دختر ( ۲)
جو سوئے دار سے نکلے