اردوئے معلیٰ

بے تاب دل و جان کو سمجھا نہ سکوں گا

میں خاک مدینے کی اگر پا نہ سکوں گا

 

محبوب نہ جب تک ہوں نبی سارے جہاں سے

مومن میں کسی طور بھی کہلا نہ سکوں گا

 

کر آئے تھے معراج وہ اک آن میں کیسے

الجھی ہوئی گتھی کبھی سلجھا نہ سکوں گا

 

رہتی ہے مرے پیش نظر سیرت احمد

اس دور کی تہذیب کو اپنا نہ سکوں گا

 

کملی میں چھپا لینا مجھے حشر میں آقا

اعمال تو دنیا سے میں کچھ لا نہ سکوں گا

 

مل جائے مجھے اذن تو میں جاؤں مدینے

گر ان کی اجازت نہ ہو میں جا نہ سکوں گا

 

احسان کا بدلہ نہیں احساں کے علاوہ

سرکار کے احسان بھی لوٹا نہ سکوں گا

 

ملتا ہے جو سرکار مدینہ کی ثنا سے

الفاظ میں اس کیف کو بتلا نہ سکوں گا

 

کرتا ہوں قمرؔ پیش جو گل ہاے عقیدت

حسّان کی صورت انہیں مہکا نہ سکوں گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات