اردوئے معلیٰ

Search

تابِ کمال لایا ہے ، عرشِ بریں کا چاند

چمکا ہے بارہویں کی سحر چودھویں کا چاند

 

دو نیم اک اشارہءِ انگشت سے ہوا

گر جوڑتے نہ آپ تو رہتا کہیں کا چاند

 

تاباں نہ کیوں ہمارا رخِ شامِ ہست ہو

وہ روضہِ طہور ہے ایمان و دیں کا چاند

 

کھیتی سخن کی نور سے معمور ہو گئی

شاہِ عرب کی نعت ہے میری زمیں کا چاند

 

پڑھنے کی ٹھان مسجدِ نبوی میں اک نماز

تارہ بنے گا پھیل کے تیری جبیں کا چاند

 

تسبیح لے کے تاروں کی پڑھیے درودِ پاک

ماہِ نشاط کیوں نہ ہو شامِ حزیں کاچاند

 

بس عاشقانِ چہرہِ انور کو ہوش ہو

جس وقت آئے سامنے خلدِ بریں کا چاند

 

بھاتا ہے اس کو منظرِ گنبد جو بس چلے

رہ جائے ساری عمر کو ہو کر وہیں کا چاند

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ