اردوئے معلیٰ

Search

تاجدارِ بزمِ عرفاں مرشدی نواب شاہ

پرتو محبوبِ یزداں مرشدی نواب شاہ

 

بہہ نہ جائے اشک کے سیلاب میں میرا وجود

کب مٹے گا داغِ ہجراں مرشدی نواب شاہ

 

دل کی دنیائیں ہیں روشن جسکی آب و تاب سے

ہیں وہ خورشید درخشاں مرشدی نواب شاہ

 

دور کر دو آج شامِ غم کی تاریکی تمام

ہو مرا دل صبحِ رخشاں مرشدی نواب شاہ

 

عاشقوں کے واسطے تو جنت الفردوس ہے

آپ کا صحن گلستاں مرشدی نواب شاہ

 

ڈھونڈ کر ثانی نہ لا پائی تمہارا آج تک

تھک چکی ہے چشمِ دوراں مرشدی نواب شاہ

 

کچھ ضرورت ہی نہیں باقی بیانِ حال کی

آپ پر ہے سب نمایاں مرشدی نواب شاہ

 

آپکی نسبت ہے مجھ کو باعث صد افتخار

اے فروغ دین و ایماں مرشدی نواب شاہ

 

اے امام العارفیں اے واقفِ سرِ نہاں

آپ ہیں ہر دل کا ارماں مرشدی نواب شاہ

 

اپنے دامن میں چھپا لینا مجھے بھی حشر میں

کچھ نہیں بخشش کا ساماں مرشدی نواب شاہ

 

نورؔ کو بھی دولت صبر و رضا کر دو عطا

ہے سخاوت تم پہ نازاں مرشدی نواب شاہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ