اردوئے معلیٰ

تاحشر مجھے ان کی غلامی میں رکھا جائے

ممکن ہے مرا نام بھی تاریخ میں آ جائے

 

کاش ایسا قصیدہ بھی کسی روز لکھا جائے

جا کر جسے خود روضہ آقا پہ پڑھا جائے

 

اے کاش کہ لگ جائیں کبوتر کے مجھے پر

اے کاش مدینے کی فضاؤں میں اڑا جائے

 

مرقوم ہو جس دل پہ ترے نام کا کتبہ

اس کتبے کی تحریر بھلا کون مٹا جائے

 

پردوں میں اگر میم کے میں جھانکنا چاہوں

حیرت ہے کہ حیرت مجھے آئینہ دکھا جائے

 

اک نام نکالے مجھے گرداب سے بیدل

اک موج کنارے مجھے دریا کے لگا جائے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات