اردوئے معلیٰ

Search

تبھی تو نام دنیا میں ہمارا معتبر ٹھہرا

ثنائے مصطفیٰ کرنا جو اعزازِ ہنر ٹھہرا

 

میں سائے بانٹتا ہوں دشت والوں میں تسلسل سے

مری آنکھوں میں جب سے شہرِ طیبہ کا شجر ٹھہرا

 

خدائے لم یزل کی کس قدر مجھ پر نوازش ہے

مری تقدیر میں شہرِ پیمبر کا سفر ٹھہرا

 

وہ جس در کی گدائی پر شہنشاہوں کو بھی ہے ناز

مری ہر آرزو کا مقصد و محور وہ در ٹھہرا

 

جسے سرکار نے اپنی غلامی کی سند دے دی

وہی تو حق تعالیٰ کا بھی منظورِ نظر ٹھہرا

 

وہ جس کی خوشبوئیں عالم کے ہر کونے میں پہنچی ہیں

چمن میں اک وہی گُل ہے فدا جو دیدہ ور ٹھہرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ